بجلی بہت مہنگی ہے، 300 سے کم یونٹ والے گھروں کو سولر پینلز دئیے جائیں گے

class="separator" style="clear: both; text-align: center;">
Jam.   


 چھت اپنا گھر“ کے تحت ایک لاکھ گھر بنائیں گے، مفت ادویات کا اطلاق آج سے ہی ہوگا، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں میٹروبس سروس شروع ہوگی، وزیراعلیٰ مریم نواز کا عوامی وعدوں پر عملدرآمد کا اعلان

 ثنااللہ ناگرہ  پیر 26 فروری 2024  23:18


لاہور ( اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 26 فروری 2024ء) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ پورے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہوں، دروازے سب کیلئے کھلے ہیں۔ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، خواتین کو ہراساں کرنا ریڈ لائن ہے۔ آج ہی حلف لے کر آفس جاؤں گی اور منشور پر عمل شروع کراؤں گی۔وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں آج سے فری میڈیسن ملیں گے۔

امراض کے بروقت علاج کیلئے ہیلتھ سکریننگ کاپروگرام

Jam


 شروع کیا جائے گا۔ کارڈ ری ڈیزائن کر یں گے۔ بی ایچ یو،آر ایچ سی میں الٹراساؤنڈ مشینیں اورکوالیفائی ڈاکٹرتعینات کیے جائیں گے۔مریضوں کی بروقت منتقلی کیلئے ایئرایمبولینس اورموٹر وے ریسکیو 1122 سروس شروع کی جائیں گی۔

(جاری ہے)


نرسزکو ٹریننگ دے کرگلف اوریورپین ہسپتالوں میں بھیجا جائے گا۔


ہر یونین کونسل میں گراؤنڈ بنائیں گے۔ہر سکول کا گراؤنڈ شام کے وقت کھلاڑیوں کیلئے اوپن ہوگا۔ہر ضلع میں کینسر،کڈنی لیور کے علاج کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنائیں گے۔رمضان المبارک میں نگہبان پروگرام کے تحت 65سے 70لاکھ ریلیف پیکٹ گھروں میں پہنچائیں گے۔ہونہار طلباء کو اعلی غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوائیں گے۔ یوتھ لون پروگرام،انٹرسٹ فری لون،یوتھ ٹریننگ،سمال بزنس لون،لیپ ٹاپ اورآئی پیڈ سکیم،پیڈ انٹرن شپ شروع کیے جائیں گے۔

نوجوانوں بالخصوص خواتین کو الیکٹرک بائیکس دیں گے۔فری لانسر ز کیلئے آئی ٹی سٹارٹ اپ پروگرام شروع ہوگا۔ورکنگ وویمن ہاسٹل،ورک پلیس پر ڈے کیئر سینٹر اورلیڈیز واش روم بنیں گے۔ماڈل وویمن پولیس سٹیشن اورہر تھانے میں وویمن ڈیسک قائم کیا جائے گا۔ 18شہروں میں سیف سٹی بن رہے ہیں۔5سالوں میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہوچکا ہوگا۔قیدیوں کی سکریننگ کا جامع پروگرام شروع کیا جائیگا۔

5آئی ٹی سٹی بنائیں گے۔10سروسز عوام کی دہلیز پر مہیا کریں گے۔بڑے شہروں میں وائی فائی مفت ہوگا،لاہور میں پائلٹ پراجیکٹ سے آغا ز کررہے ہیں۔فارم ٹو مارکیٹ روڈز پروگرام دوبارہ شروع کریں گے۔ فیصل آباد،گوجرانوالہ اورسیالکوٹ میں میٹروبس سروس شروع ہوگی۔لاہور کی ہر سڑک پر بہترین ٹرانسپورٹ لانا چاہتی ہوں۔ساؤتھ پنجاب میری خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔

ساؤتھ کے ایم پی ایز سے میٹنگ کا آغازہوگا۔ پنجاب بھر میں الیکٹر ک بسوں کیلئے چارجنگ پوائنٹ پلان کررہے ہیں۔کاشتکاروں کیلئے سمارٹ ایگری کلچر زون بنائے جائیں گے۔ زرعی مشینری رعایتی نرخوں پر دیں گے۔لائیوسٹاک کیلئے خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔پاکستان سے بیماریوں سے پاک  جانوروں کا گوشت گلف مارکیٹ میں بیچا جائے گا۔شہروں میں گندگی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

طلباء خاص طورپر طالبات کیلئے فری سکول ٹرانسپورٹ پروگرام متعارف کرائیں گے۔300سے کم یونٹ بجلی استعمال کرنے والے شہریوں کیلئے آسان اقساط پر سولر پینلز دیئے جائیں گے۔اپنی چھت اپنا گھرسکیم کا آغاز ایک لاکھ گھروں سے کیا جائے گا۔ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت گلیوں بازاروں کو صاف رکھا جائے گا۔اوورسیز پاکستانیوں کوبیرون ملک سروسز کی فراہمی کا پراجیکٹ لانچ کریں گے۔

صحافیوں کیلئے ہیلتھ اورلائف انشورنس لانچ کیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کہا کہ سرجھکا کر عاجزی سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہوں۔تمام مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں کہ قدرت کا نظام پہلے مشکل سے گزارتا ہے اور پھر عزت دیتا ہے۔پنجاب کے عوام اور تمام اراکین اسمبلی بہت بہت شکریہ۔

وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ سپیکرملک محمد احمد خان اور ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنہڑ منتخب ہونے پر دل گہرائیوں سے مبارکباد دیتی ہوں۔امید کرتی ہوں کہ سپیکرملک محمد احمد خان اور ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنہڑکی قیادت میں یہ ایوان جمہوریت کا پرچم بلند کرے گا۔افسوس ہے کہ اپوزیشن اراکین موجود نہیں،خواہش تھی کہ وہ بھی موجود ہوتے۔ہم سب جمہوری کارکن ہیں،سیاست میں مقابلہ لازم ہوتا ہے۔

بہت مشکل لمحات آئے،ہر کوئی ہمارے خلاف تھا اور بربریت کا نشانہ بنتے رہے، اللہ کا شکر ہے کہ پارٹی کا ہر رکن اور ہم سب سے بحیثیت پارٹی ہمت نہیں ہاری۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بنچز پر موجود ہوتی،شور شرابہ ڈالتی تو خوشی ہوتی۔اپوزیشن کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ ان سب کی اتنی ہی وزیراعلی ہوں جتنی اپنی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی ہوں،جنہوں نے مجھے ووٹ دیا اور جنہوں نے نہیں دیا،ان کی بیٹی،بہن اور وزیراعلی ہوں۔

میرا دفتر،میرے دروازے اور میرے چیمبرز ہر رکن اسمبلی کیلئے 24گھنٹے کھل




Comments